65

سانحہ ساہیوال میں دہشتگرد قرار دئے جانے والے ذیشان کی بیٹی کا بیان سامنے آگیا

بابا کہتے تھے کہ میں بڑی ہو کر ڈاکٹر بنوں، مجھے بابا بہت یاد آتے ہیں۔ ذیشان کی بیٹی کے بیان نے سب کو آبدیدہ کر دیا

لاہور (
 
ویب ڈیسک  ۔ 22 جنوری 2019ء) : سانحہ ساہیوال میں دہشتگرد قرار دئے جانے والے شخص ذیشان کی بیٹی کا بیان بھی سامنے آ گیا ہے۔ والد کی موت کے مُرجھائی ہوئی اس ننھی کلی سے جب اس کے بابا ذیشان کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ میرے بابا مجھے جانے سے پہلے کہہ کر گئے کہ میں شادی پر گاؤں جا رہا ہوں جلدی واپس آ جاؤں گا۔ذیشان کی بیٹی نے بتایا کہ میرے بابا مجھے کہتے تھے میری بیٹی نے بڑی ہو کر ڈاکٹر بننا ہے۔ مجھے میرے بابا بہت اچھے لگتے تھے اور مجھے بہت یاد آتے ہیں۔ میرے بابا کے ساتھ جن لوگوں نے ایسا کیا انہوں نے غلط کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ذیشان کی بیٹی کی اس ویڈیو نے سب کو آبدیدہ کر دیا ہے۔

Embedded video

Saaien Log@saaienlog

This is the daughter of Zeeshan,killed by CTD in sahiwal#justice4sahiwalvictims3254:42 PM – Jan 21, 2019

د رہے کہ ہفتے کے روز ساہیوال میں سی ٹی ڈی نے کارروائی کی جس کے نتیجے میں چار افراد کو ہلاک کر دیا گیا ۔

ہلاک ہونے والوں میں خلیل، نبیلہ ، اریبہ اور ذیشان نامی افراد شامل تھے۔ سی ٹی ڈی کی جانب سےذیشان کو دہشتگرد قرار دیا جا چکا ہے ۔ ترجمان سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری بیانات میں ذیشان کے دہشتگرد ہونے کے ثبوت ملنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ذیشان پر دہشتگرد ہونے کا الزام عائد ہونے کے بعد گذشتہ روز نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ذیشان کی والدہ نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے اوپر دہشتگردی کا الزام واپس لے، تاکہ ان کے بچے، بھائی سب سراٹھا کرزندگی گزار سکیں۔انہوں نے کہا کہ حفیظ سنٹر میں کام کیا، وہاں سے پوچھ لیں۔ کسی سے پوچھ لیں، محلے والے بتائیں گے کہ وہ ایماندار تھا۔ہم غریب ضرور ہیں لیکن ایسے کام نہیں کرتے۔ ذیشان پانچ وقت کا نمازی تھا، قرآن پڑھتا تھا۔7 سال کی بچی نے تین بار قرآن پاک پڑھ کر مکمل کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی عندلیب عباس ہمیں پچھلے 30 سالوں سے جانتی ہے۔ان سے بھی میں ملنے جاؤں گی۔ ان سے پوچھیں کہ ذیشان کیسا بچہ تھا۔میرا بیٹا عندلیب عباس کی دیورانی روبینہ کے گھر میں رہا ہے۔ روبینہ نے ہی اس کو پڑھایاہے۔ اگر ذیشان نے ایسا کام کیا ہے تواس کوپکڑ لیتے لیکن جان سے نہ مارتے۔ ذیشان کی والدہ نے اپنے بیٹے پر عائد تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انصاف کی اپیل کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں