39

اماراتی باپ نے پولیس کے تعاقب سے بھاگے بیٹے کو خود تھانے پہنچا دیا

بیٹے نے تیز رفتاری کی خاطر کار کے انجن میں غیر قانونی تبدیلی کروا رکھی تھی

شارجہ(
ویب ڈیسک  ۔22 جنوری 2019ء ) ایک اماراتی شخص نے اپنے کم سن بیٹے کو خود پولیس اسٹیشن پہنچا دیا۔ اماراتی کے بیٹے نے کار کے انجن میں تبدیلی کروا رکھی تھی، جب پولیس نے اُس کا تعاقب کیا تو اُس نے گاڑی روکنے کی بجائے بھگا دی اور موقع سے فرار ہو گیا۔ بعد میں پولیس نے جب کار کا نمبر ٹریس کیا تو پتا چلا کہ یہ کار ایک اماراتی شخص کے نام تھی۔تاہم اماراتی شخص کو معلوم نہیں تھا کہ اُس کے بیٹے نے کار کی رفتار بڑھانے کے لیے اُس کے انجن میں غیر قانونی طور پر موڈیفیکیشن کروائی ہے۔ جب باپ کو ساری بات کا پتا چلا تو وہ خود اپنے بیٹے کو پکڑ کر تھانے لے گیا۔ پولیس اہلکاروں کی جانب سے اماراتی شخص کے اس اقدام کو بہت سراہا گیا۔ ایک مقامی اخبار نے بتایا ہے کہ شارجہ پولیس، عجمان پولیس اور راس الخیمہ پولیس نے تبدیلی والے انجنوں، شور مچاتی کاروں اور انجنوں میں تبدیلی کرنے والی ورکشاپس کے خلاف تین نکاتی پروگرام پر عمل شروع کر دیا ہے۔

پولیس کی جانب سے شور مچاتی کاروں کے لیے مختلف لیولز سیٹ کیے جائیں گے، پھر شور کے ہر لیول کے مطابق مختلف جرمانے عائد کیے جائیں گے۔پولیس نے رہائشی علاقوں میں پٹرولنگ بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ جبکہ موڈیفکیشن کے غیر قانونی کام میں ملوث تمام کار ورکشاپس بند کر دی جائیں گی۔ راس الخیمہ پولیس نے گزشتہ سال موڈیفائیڈ کاروں کے123 کیسز پکڑے جبکہ شور مچاتی گاڑیوں سے متعلق درج کیے گئے معاملات کی گنتی 373 تھی۔جبکہ عجمان میں موڈیفائیڈ کاروں کی رپورٹ 186 اور شور مچاتی گاڑیوں کی تعداد 201 نوٹ کی گئی۔ شارجہ پولیس کے ٹریفک کنٹرول کے سربراہ میجر محمد الصیحی نے خبردار کیا کہ گاڑیوں کے شور کے حوالے سے مختلف لیولز سیٹ کیے گئے ہیں۔ اگر کسی گاڑی کے شور کا لیول 100Hz سے 105Hz کے درمیان پایا گیا تو ایسی صورت میں 30 دِنوں کے لیے کار ضبط کی جائے گی، جبکہ ڈرائیور کو ایک ہزار درہم کے جرمانے کے علاوہ 12 بلیک پوائنٹس کا اندراج بھی ہو گا۔گاڑی کا شور 150 Hz سے بڑھ جانے کی صورت میں گاڑی چھ ماہ کے لیے ضبط کی جائے گی، ڈرائیور پر دو ہزار درہم کا جرمانہ اور ڈرائیونگ لائسنس پر 12 بلیک پوائنٹس کا اندراج ہو گا۔ میجر الصیحی کے مطابق زیادہ تر 18 سے 30 سال کی عمر کے لوگ کاروں کی موڈیفیکیشن میں ملوث پائے گئے ہیں۔ گاڑی کے انجن میں حدِ رفتار کی تبدیلی کی خاطر ایک لاکھ درہم سے لے کر ایک لاکھ بیس ہزار درہم تک کا خرچہ آتا ہے۔ پولیس کی جانب سے القرین اور المطار کے علاقوں میں خاص طور پر نگرانی بڑھائی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں