69

کراچی میں بیماریاں پھیلا کر ادویہ ساز کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جارہاہے ،تاجر الائنس کراچی کا سیوریج سسٹم برٹش دور سے قائم ہے جس میں کبھی بہتری لانے کی کوشش نہ کی گئی

کراچی (
ویب ڈیسک ۔ 19 جنوری2019ء) کراچی تاجرالائنس ایسوسی ایشن کے چیئرمین وبانی عام آدمی پاکستان ایاز میمن موتی والا نے کہاہے کہ کراچی کا سیوریج سسٹم برٹش دور سے قائم ہے جس میں تو کبھی ترقی کرنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی اسے کبھی ضروری سمجھا گیاہے بلکہ قیام پاکستان سے لیکرآج تک تمام تر سیاسی جماعتوں نے الٹا شہر قائد کو مسائل کے دلدل میں ہی دھکیلا ہے ،ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز ناظم آباد کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے عوام سے ملاقاتوں کے دوران کیا ،انہوں نے مجاھد کالونی اور موسیٰ کالونی کی کچی آبادی کے مکینو ں سے ملاقاتیں بھی اور ان کے مسائل معلوم کیئے ۔

اس دوران ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں جو حال کچی آبادیوں کا ہے وہ ہی حال آجکل ڈیفنس جیسے علاقوں کا بھی ہے سندھ حکومت اور میئر کراچی کا فرض بنتاہے کہ وہ مل کر عوام کو اس عذا ب سے نکالیں انہوں نے کہا کہ شہر قائد کے تمام علاقوں سے ہی سیوریج کا نظام نئے سرے سے درست کرنے کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہاکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کراچی کے ماحول کو آلودہ کیا جارہاہے ،کچرے کے ڈھیر اور سیوریج زدہ نظام دیکر بیماریاں پیدا کی جارہی ہے جبکہ شہر بھر میں گندگی کے باعث بیماریاں پھیلا کر ادویہ ساز کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جارہاہے ،انہوں نے کہاکہ میں ایک طویل عرصے سے شہر قائد میں جہاں امن لانے کے لیے محنت کرتا رہاہوں وہاں اس شہر میں صفائی ستھرائی کے لیے مختلف پروگراموں کو بھی ترتیب دیتا رہاہوں جس میں میری کوشش ہوتی ہے کہ عوامی مسائل کی آوازکسی نہ کسی طرح سے ایوانوں تک پہنچ جائے ،انہوں نے کہا کہ کراچی تاجر الائنس اعلیٰ حکام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ شہرقائد کی عوام پر رحم کھائے اور کراچی میں سیوریج کے نظام کو نئے سرے بناکر اس عذاب مسلسل کو عوام کے سروں پر سے ٹال دے کیونکہ جب کبھی سیوریج کا نظام خراب ہونے کے بعد ٹھیک کیا جاتاہے تو اس کے دو روز کے بعد پھر سے گٹر لائنوں سے پانی کااخراج نہ صرف سڑکوں پر آجاتاہے بلکہ لوگوں کے گھروں میں پانیداخل ہوجاتاہے جس کے لیے ضروری ہے کہ سیوریج سسٹم کو پورے کراچی میں ایک نظام کے تحت نئے سرے سے ڈالا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں