140

ناک ،کان اورگلے کی بیماریاں

ایسی آواز جو 90ڈیسی بیل کی ہو انسانی سماعت کے لئے نقصان دہ ہے۔آواز خواہ وہ گانوں کی ہویا عام بول چال کی 85ڈیسی بیل سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔آلات موسیقی سے تیز آوازوں والا شورسماعت پر براثر ڈالتا ہے ۔اس طرح کان میں جلن اور سوزش ہوجاتی ہے ایسی تکالیف سے رسولیاں بھی بن سکتی ہیں ۔اسی طرح اےئر فونز اور ہیڈفونز بھی سماعت کے لئے خطرات سے پر ہیں ۔اس کے علاوہ عمر رسیدگی ،
ماحولیاتی آلودگی ،غدود کا پھولنا اور غیر ضروری طور پر ادویات کا کھانا بھی سماعت متاثر کرتا ہے۔
ناک کی تکالیف توجہ طلب ہیں
ناک بند ہونا ایک عام شکایت ہے ۔یہ پیدائشی مرض بھی ہو سکتا ہے ۔ڈاکٹر اس کی سرجری کرانے کا مشورہ دیتے ہیں جب چھوٹے بچے منہ سے سانس لیتے ہیں اس وقت تک اسے قابل تشویش نہیں سمجھا جاتا ۔

ناک بند ہو ،بچہ منہ سے سانس لے رہا ہو اور تکلیف سے اس کا چہرہ سرخ ہورہا ہو تو بلاتاخیر ENTاسپیشلسٹ سے رابطہ کرلینا چاہئے۔وہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ علاج کی نوعیت کیا ہو گی۔خود علاجی کے لئے ناک میں دواالنے سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔اگر الرجی ہوتو اسی وقت ڈاکٹر دواتجویز کردیتا ہے ۔Adenoidsایک نسیج ہے جو ناک کے پچھلے حصے اور حلق میں ہوتی ہے جب بڑھ جائے تو بچے ناک سے سانس نہیں لے سکتے۔
ماؤں کے لئے احتیاطی تدابیر
نونہالوں کو گود میں لٹا کر دودھ پلایا کریں ۔دودھ پلاتے وقت بچے کو ہو شیار کریں ۔وہ اونگھتا ہوا دودھ نہیں پی سکتا۔اس وقت بچے کو چاق وچوبند ہونا چاہئے۔
دودھ کی بوتل کا مجبوری میں استعمال کیا جا سکتا ہے وگرنہ یہ بھی نقصان دہ ہے ۔بوتل سے انفیکشن ہونے کا خدشہ بڑھتا ہے جبکہ قدرتی دودھ کئی مسائل سے محفوظ رکھتا ہے ۔
سپاری ،نسوار اور گٹکا چبانا اور سگریٹ نوشی یا حقہ پینا یہ تمام ترعادات حلق کی خراش،پھیپھڑوں کی بیماریوں اور زبان اور حلق کے سرطان کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں ۔
قدرتی دودھ پلانے کے دورانئے میں مائیں ٹھنڈی اور ترش غذاؤں سے پر ہیز کریں تو اچھا ہے ۔بعض دفعہ ثقیل غذائیں کھانے والی ماؤں کے نوزائیدہ بچوں کو بھی گیس ،ابھارے اور ہاضمے کے دوسرے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
حلق کا دکھنا عام بیماری ہے مگر ․․․
احتیاط سے کھانا پینا آرام دے سکتا ہے مثلاً بہت گرم کھانا یا چائے یا بہت برفیلاپانی ،رات کو کولاڈرنک یا دہی کا استعمال کرنا نقصان دہ ہوتا ہے ۔کھانے کے فوراً بعد لیٹنا یا سونا مضر ہے ۔کھانا کھانے کے بعد چند منٹوں کے لئے سست رفتار سے چہل قدمی کرلی جائے تو نظام ہضم فعال رہتا ہے ۔
حلق کی گٹلیاں Tonsilsامراض قلب کا پیش خیمہ
Tonsilsکا ابتدائی مرحلے ہی میں علاج ہو جائے تو بہتر ہوتا ہے ورنہ گردے اور دل متاثر ہوتے ہیں ۔اسی طرح حلق میں زخم (Ulcer)کی بیماریاں بھی ہوتی ہیں ۔ہمارے یہاں لوگوں کو سگریٹ نوشی کی عادت بھی ہوتی ہے اور اس سے بھی زیادہ مہلک سپاری ،نسوار اور گٹکا چبانا ہے ۔ان چیزوں کے کھانے سے حلق پر براہ راست اثر پڑتا ہے اور ایک اسٹیج پر آکر کینسر ہو سکتا ہے ۔
آواز بیٹھنا بھی ایک بیماری ہے
یہ عارضہ ہفتے دو ہفتے میں ختم نہیں ہوتا۔ابتدائی مرحلے میں اگر ٹھیک ہوبھی جائے تو چوتھے مرحلے میں صحت یابی کا 50فیصدی امکان بھی باقی نہیں رہتا۔اس عارضے ،منہ کی رسولی نتھنوں اور کان سے خون بہنے کا علاج فوری طور پر ہونا چاہئے عام طور پر اینٹی بایوٹیک ہی تجویز کئے جاتے ہیں ۔
خیال رہے کہ اگر بچے کی ناک ٹیڑھی ہو،ناک کی ہڈی مڑی ہوئی ہوتو ایسا بچہ پیدائش کے وقت نارمل سمجھا جاتا ہے لیکن اس کا بھی موٴثر ترین علاج موجود ہے ۔مڑی ہوئی ناک کو پیدائش کے دوتین دن کے اندر درست کرالینا چاہئے اگر چوٹ لگنے کی صورت میں ہڈی مڑی ہوتو اس کا علاج سرجری ہے ۔
سوتے میں خراٹے لینا باقاعدہ مرض قرار پایا 
گوکہ خراٹے لینا ایک ناگوار عمل جو عام طور پر موٹاپے کا شکار لوگوں کو متاثر کر چکا ہے حلق یاناک کے پچھلے حصے میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تب بھی خراٹے آنے لگتے ہیں ۔اس کا صحیح سبب معلوم کرکے علاج کرانا چاہئے ،ور نہ دل پر اثر پڑتاہے۔
نزلہ زکام کی کیفیت
ایسی صورتحال میں حلق میں ریزش ہوتی ہے اس کے ساتھ ساتھ کان میں کھجلی ہونے لگتی ہے ۔کسی ماچس کی تیلی یا ہےئرپن سے کھجانے یا کان صاف کرنے کی غلطی کبھی نہ کریں ۔کان قدرتی طور پر صاف ہوتے ہیں آپ کو محض سامنے کے حصے کو نرم روئی یا ٹشو پیپر سے صاف کرنا ہوتا ہے عموماً خواتین جب
میک اپ کے لئے فاؤنڈیشن استعمال کرتی ہیں تو کان کی لوؤں تک Baseلگاتی ہیں تاکہ چہرے اور کان کی رنگت میں یکساں تاثر واضح ہو اس لئے آپ بھی بیرونی حصوں کی صفائی پر توجہ دیں ۔کان بند ہوجائیں تو ENTاسپیشلسٹ سے علاج کروانا ضروری ہوجاتا ہے ۔
ٹھنڈا پانی نہیں پینا چاہئے۔سادہ پانی اورنیم گرم دودھ پئیں۔ترش چیزوں سے پر ہیز کریں ۔افاقہ نہ ہوتو ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں ۔عام حالات میں دودھ ،کیلا اور چاول بلغم نہیں کرتے لیکن اگر نظام ہاضمہ درست نہ ہوتو علاج کرانا ضروری ہوجاتا ہے ۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں