83

میرے کام میں مداخلت ہوئی، میں صرف نام کا وزیر نہیں بن سکتا

مستعفی صوبائی وزیر عمار یاسر پنجاب حکومت پر برس پڑے

لاہور (
ویب ڈیسک ۔ 19 جنوری 2019ء) : مسلم لیگ ق کے رہنما اور مستعفی صوبائی وزیر برائے معدنیات عمار یاسر پنجاب حکومت پر برس پڑے ۔ تفصیلات کےمطابق مستعفی صوبائی وزیر عمار یاسر نے کہا کہ میرے کام میں بے جا مداخلت کی گئی، میں صرف نام کا وزیر بن کر نہیں رہ سکتا۔ جب میں کسی ایک ملازم کا بھی تبادلہ نہیں کر سکتا تو پھر وزارت کس کام کی؟ انہوں نے کہا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں۔پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی بھی پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب وزیروں کا یہی حال ہے ، ہر وزیر کے پاس نئی کہانی ہے۔ ق لیگ نے نیک نیتی سے اتحاد کیا اور اسی لیے ہم حکومت کے ساتھ چل رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرے کام میں مسلسل رکاوٹیں آ رہی تھیں جس کی وجہ میں وقتا فوقتاً اپنی لیڈر شپ سے بھی اس بات کا تذکرہ کرتا تھا۔

اور انہیں بتاتا تھا ہمیں کام کرنے کا صحیح موقع نہیں مل رہا اور ہمیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔اس معاملے پر میں نے نعیم الحق کو بھی کئی مرتبہ آگاہ کیا لیکن کچھ نہیں ہوا۔ وزیراعظم عمران خان ہم سے نتائج کا مطالبہ کرتے تھے اور کہتے ہیں کہ تمام وزیر اپنا رزلٹ دیں۔ اگر رزلٹ چاہتے ہیں تو پھر اختیار بھی دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ میں صرف اپنی بات نہیں کر رہا میں تمام وزیروں کی بات کر رہا ہوں کہ ہمارے پاس کلاس فور کے ملازم کا تبادلہ کرنے کا بھی اختیار نہیں ہے۔ہم پوری نیک نیتی کے ساتھ ان کے ساتھ چل رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ جتنی نیک نیتی کےساتھ ہماری لیڈر شپ رات دن اس حکومت کو کامیاب کرنے کے لیے محنت کر رہی ہے اتنا کوئی بھی نہیں کر رہا ہوگا اور ایسی مثال کہیں نہیں ملتی۔ ہمارے اتحاد اور نیک نیتی کی مثال سینیٹ انتخابات ہیں۔چوہدری پرویز الٰہی ،طارق بشیر چیمہ اور ہماری جتنی بھی ٹیم تھی ،رات تین تین بجے تک ارکان اسمبلی سے ملاقات کرتے تھے لیکن کبھی ہماری حوصلہ افزائی تک نہیں کی گئی۔سیاست تو عزت کے لیے کی جاتی ہے۔ ہمارا تعلق دیہی علاقوں سے ہے اور ہم دیہاتی علاقوں سے ووٹ لے کر آتے ہیں۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں پورے پنجاب میں واحد رکن اسمبلی ہوں جس نے سب سے زیادہ (83000) ووٹس لیے ہیں۔ یہ پنجاب کا ریکارڈ ہے۔ لہٰذا اگر میں وزیر بنا ہوں تو میں صرف ٹائٹل لینے کے لیے نہیں بنا ہوں کہ عمار یاسر وزیر بن گیا ہے۔ میں کچھ کام کرنا چاہتا ہوں۔جب ہمیں کام نہیں کرنے دیا گیا تو میں نے عزت کے ساتھ اپنی قیادت کو استعفیٰ دے دیا۔اس معاملے پر میں نے چوہدری شجاعت صاحب کو بھی اعتماد میں لیا،انہوں نے کہا کہ ٹھہر جاؤ لیکن میں نے کہا کہ نہیں اس سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کبھی ٹویٹ کے ذریعے کہا جاتا ہے کہ فارورڈ بلاک بنا رہے ہیں تو کبھی کوئی بات کی جاتی ہے، اتحادیوں کے ساتھ بھلا ایسے ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے اپنے وزیروں کا یہی حال ہے، سب ہزاروں ، لاکھوں لوگوں سے وعدے کرکے آئے ہوئے ہیں، لہٰذا جب کام نہیں ہوں گے تو وزرا کیسے خوش ہوں گے؟ یاد رہے کہ گذشتہ روز پنجابحکومت کے وزیر معدنیات نے استعفیٰ دے دیا۔ق لیگ سے تعلق رکھنے والے حافظ عمار یاسر نے وزارت کے معاملات میں بے جا مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا جس کے بعد ق لیگ کے تحفظات دور کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کی جو بے سود رہی۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے خود اسپیکر پنجاب اسمبلی سے ملاقات کرنے اور اتحادی جماعت ق لیگ کے تحفظات دور کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے مابین ملاقات آئندہ چند روز میں ہونے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں