48

عینی شاہدین نے سی ٹی ڈی کی رپورٹ پر سوالیہ نشان لگا دیا

گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی، ایلیٹ فورس نے ایک گاڑی کو روکا اور فائرنگ شروع کردی، پولیس نے بچوں کو قریبی پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، جہاں سے سی ٹی ڈی نے بچوں کو تحویل میں لے لیا۔عینی شاہدین کی گفتگو

لاہور(
ویب ڈیسک ۔19 جنوری2019ء) ساہیوال واقعے کے عینی شاہدین نے سی ٹی ڈی کی رپورٹ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی، ایلیٹ فورس نے ایک گاڑی کو روکا اور فائرنگ شروع کردی، پولیس نے کار میں سوار بچوں کو قریبی پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، جہاں سے سی ٹی ڈی نے بچوں کو تحویل میں لے لیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا نشانہ بنانے والی گاڑی لاہورکی جانب سے آرہی تھی۔ جسے ایلیٹ فورس کی گاڑی نے روکا اور فائرنگ کردی جبکہ گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔عینی شاہدین کے مطابق مرنے والی خواتین کی عمریں 40 سال اور 12 برس کے لگ بھگ تھیں۔عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے کار میں سوار بچوں کو قریبی پیٹرولپمپ پر چھوڑ دیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین کو مار دیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق تھوڑی دیر بعد ہی سی ٹی ڈی پولیس بچوں کو اپنے ساتھ موبائل میں بٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئی، جن میں سے ایک بچہ فائرنگ سے معمولی زخمی ہوا۔ اسی طرح ساہیوال واقعے میں سی ٹی ڈی کی تحویل میں لیے گئے بچوں کا جب بیان قلمبند کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جاں بحق افراد ان کے والد، والدہ، خالہ اور ڈرائیور ہیں۔ وہ لوگ لاہور سے بورے والا جارہے تھے کہ راستے میں پولیس نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔اس کے برعکس سی ٹی ڈی نے ساہیوال واقعے کی رپورٹ آئی جی پنجاب امجد سلیمی کوبھجوا دی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ساہیوال واقعے میںہلاک دہشتگردوں کا نام ریڈ بک میں شامل ہے۔ حساس ادارے دہشتگردوں کو ٹریس کررہے تھے۔تاہم ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب حساس ادارے نے روکنے کی کوشش کی توفائرنگ کردی گئی۔ سی ٹی ڈی کی جوابی فائرنگ میں 4دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔دہشتگرد خود کومحفوظ رکھنے کیلئے خواتین کے ساتھ سفر کرتے تھے۔ ہلاک دہشتگردوں میں ایک دہشتگرد کی شناخت ذیشان ولد جاوید اخترسے ہوئی ہے۔ جبکہ فیصل آباد میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ میں ایک دہشتگردعدیل حفیظ ہلاک ہوا تھا۔ ملزمان نے حساس ادارے کے 3 افسر جبکہ فیصل آباد میں ایک افسر کوشہید کیا۔ شاہد جبار، عبدالرحمن ، اور نامعلوم دہشتگردموٹرسائیکل پرفرار ہوگئے۔ آپریشن 16جنوری کو فیصل آباد میں ہونے والے آپریشن کا تسلسل ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہی دہشتگرد یوسف رضا گیلانی کے اغواء میں بھی ملوث تھے۔مارے گئے افراد کا تعلق لاہور سے تھا۔ بچے اور گاڑی سی ٹی ڈی کی تحویل میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں