53

ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والی خلیل کی والدہ صدمے سے چل بسیں

خلیل کے والد نہیں تھے اور والدہ علیل تھیں ، بیٹے کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کر سکیں

لاہور (
ویب ڈیسک ۔ 19 جنوری 2019ء) : ساہیوال میں سی ٹی ڈی کیفائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص خلیل کی والدہ بھی صدمے سے چل بسیں ۔ تفصیلات کے مطابق خلیل کے اہل خانہ نے بتایا کہ خلیل کے والد نہیں تھے اور والدہ علیل تھیں، جب انہیں بیٹے کی موت کی خبر ملی تو وہ صدمہ برداشت نہ کر سکیں اور چل بسیں۔ خلیل کے اہل خانہ نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں ابھی لاہور سے خلیل کی والدہ کے انتقال کی خبر موصول ہوئی ہے۔دوسری جانب سی ٹی ڈی کی کارروائی میں مارے جانے والے چاروں افراد کے اہل خانہ نے واقعہ کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔ ہلاک افراد کی لاشیں حوالے نہ کرنے پر لواحقین نے ساہیوال میں بھی سول اسپتال کے سامنے سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ہمیں لاشوں کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی جا رہی۔

لاہور میں بھی ہلاک افراد کے اہل خانہ نے احتجاج کرتے ہوئے فیروز پور روڈ اور میٹروبس سروس بند کر دی ہے۔یاد رہے کہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی نے مبینہ طور پر مشکوک کارروائی کی جس کے نتیجے میں دو خواتین سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے۔ کارروائی کے نتیجے میںہلاک ہونے والے شخص خلیل کے اہل خانہ کا بیان سامنے آ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خلیل نامی شخص کے بھائی نے بتایا کہ اہل خانہ شادی پر بورے والا جا رہے تھے۔ بھائی کا دوست بھی گاڑی میں ساتھ تھا جو اسی محلے میں رہتا ہے۔ہم 30 سال سے اسی محلے میں رہ رہے ہیں۔ بھابھی اور چار بچے گاڑی پر گھر سے گئے۔ ایک منہ بولا بھائی ذیشان حیدر ڈرائیور ہے ، وہ ساتھ جانے کا کہتا رہا۔ مقتول کے بھائی نے بتایا کہ مقتول اسٹور چلاتا تھا۔ مقتول کے بھائی نے کہا کہ پولیس ہمیں کچھ نہیں بتا رہی کہ میرے بھائی، بھابھی اور بھتیجی اریبہ کہاں ہے۔ مقتول کے ایک اور بھائی نے بتایا کہ ہم سب اپنی اپنی گاڑیوں میں آگے پیچھے جارہے تھے ، میں نے کچھ دور جا کر ان کو کال کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ اوکاڑہ بائی پاس کی طرف جا رہے ہیں۔میرے والد اور ایک بھائی پہلے گاؤں پہنچ گئے ۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ خلیل بھائی کا نمبر نہیں مل رہا لہٰذا آپ راستے میں ان کو دیکھتے آئیں۔ ہم نے بھی ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہیں ہو سکا۔ساہیوال بائی پاس پر آ کر ہم کھڑے ہوئے ، ہمیں وہاں بھی کہیں خلیل کی گاڑی نظر نہیں آئی جس پر میں نے چونگی امر سدھو میں اپنے چھوٹے بھائی کو فون کیا۔کچھ دیر کے بعد مجھے میرے بھائی نے بتایا کہ ٹی وی پر ان کی خبر چل رہی ہے کہ فائرنگ میں ان کی ہلاکت ہو گئی ہے۔ میں نے فوری طور پر 1122 کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ آپ فوری طور پر اسپتال جائیں بچے اور میتیں اُدھر ہیں۔ میں اسپتال آیا ہوں، بچے مجھے مل گئے ہیں لیکن میتیں ہمارے حوالے نہیں کی جا رہیں۔ پولیس کاکہنا ہے کہ یہ دہشتگرد ہیں۔ انہوں نے اپنا پورا بائیو ڈیٹا اور ایڈریس بھی بتایا۔یاد رہے کہ ساہیوال میں تھانہ یوسف والا کی حدود میں قادرآباد کے قریب سی ٹی ڈی کی کارروائی میں دو خواتین سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔ سی ٹی ڈی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر آپریشن کیا اور ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب ایک گاڑی کو روکا، دہشت گردوں نے گاڑی روکنے کے اشارے پر سی ٹی ڈی کے اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔عینی شاہدین کے مطابق ساہیوال میں ہونے والا مبینہ پولیس مقابلہ جعلی تھا، جاں بحق ہونے والوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔عینی شاہدین کا کہنا ہے فائرنگ سے دو خواتین اور دو مرد مارے گئے۔ ایک خاتون کی عمر 40 سال اور دوسری کی عمر 13 سال تھی۔ عینی شاہدین نے کہا کہلاہور سے گاڑی آرہی تھی، پولیس نے فائرنگ کی۔ پولیس گاڑی سے ایک زخمی بچے کو اپنے ساتھ اسپتال لے گئی جن میں سے ایک بچہ زخمی تھا۔ گاڑیمیں کپڑوں سے بھرے تین بیگز تھے جنہیں پولیس ساتھ لے گئی۔ ساہیوال میں ہونے والی اس کارروائی کے مشکوک پہلو منظر عام پر آنے کے بعد آئی جیپنجاب نے معاملے کا نوٹس لیا اور آر پی او ساہیوال سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی جس کے بعد اب وزیراعظم عمران خان نے بھی ساہیوال میں کار پرفائرنگ کے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور پنجاب حکومت سے رپورٹ طلب کی۔دوسری جانب سی ٹی ڈی نے ساہیوال واقعے کی رپورٹ آئی جی پنجاب امجد سلیمی کوبھجوا دی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ساہیوال واقعے میں ہلاکدہشتگردوں کا نام ریڈ بک میں شامل ہے ۔حساس ادارے دہشتگردوں کو ٹریس کررہے تھے۔تاہم ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب حساس ادارے نے روکنے کی کوشش کی توفائرنگ کردی گئی۔سی ٹی ڈی کی جوابی فائرنگ میں 4دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔دہشتگردخود کومحفوظ رکھنے کیلئے خواتین کے ساتھ سفر کرتے تھے۔ہلاک دہشتگردوں میں ایک دہشتگرد کی شناخت ذیشان ولد جاوید اخترسے ہوئی ہے۔جبکہ فیصل آباد میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ میں ایک دہشتگردعدیل حفیظ ہلاک ہوا تھا۔ملزمان نے حساس ادارے کے 3افسر جبکہ فیصل آباد میں ایک افسر کوشہید کیا۔شاہد جبار، عبدالرحمن ، اور نامعلوم دہشتگردموٹرسائیکل پرفرار ہوگئے۔آپریشن 16جنوری کو فیصل آباد میں ہونے والے آپریشن کا تسلسل ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہی دہشتگرد یوسف رضا گیلانی کے اغواء میں بھی ملوث تھے۔مارے گئے افراد کا تعلق لاہور سے تھا۔ بچے اور گاڑی سی ٹی ڈی کی تحویل میں ہے۔ سی ٹی ڈی اور پولیس کے متنازعہ بیانات نے سی ٹی ڈی کی اس کارروائی کو مشکوک کر دیا ہے جس پر سوال اُٹھایا جا رہا ہے کہ کیا سی ٹی ڈی نے کسی معصوم اور بے گناہ شہریوں کو بغیر کسی ثبوت کے مار دیا یا پھر معاملہ کچھ اور ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں