39

ہرامن بھرا سلاد کا پتا

بظاہریہ پتا کسی قسم کا ذائقہ نہیں رکھتا یعنی نہ تو ترش ہے نہ مٹھاس بھرا اور نہ ہی تلخ ،اسی لئے اسے برگر کے ساتھ کھالیا جاتاہے
عام طور پر سلاد سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ اس پلیٹر میں گاجر ،مولی،چقندر،پیاز،کھیراا ور ککڑی شامل ہوں گے کبھی کبھی کہیں کہیں سلاد کے مخصوص پتوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے ۔انگریزی زبان میں اسے Lettuceکہا جاتا ہے ۔یہ وٹامنAکے حصول کے موٴثر ترین ذرائع میں سے ایک ہے ۔یوں تو خراب کولیسٹرول کی زیادتی کو معتدل رکھنے میں دیگر سبزیاں بھی اہم کردار کی حامل ہوتی ہیں ۔تازہ سلاد سبزی کا سبز رنگ اس میں موجود کلوروفل کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
علاوہ ازیں اومیگا 3اور6فیٹی ایسڈز جسم کے لئے ناگزیر ہیں ۔دل کی بیماریوں سے حتی الامکان حد تک بچاؤ کے لئے ہر کھانے کے ساتھ سبزیوں سے بنی سلاد کھانی اس لئے بھی ضروری ہے کہ سرخ گوشت اور اناج میں Purineپائی جاتی ہے جسم کے اندر پہنچ کریورک ایسڈز میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔

جوڑوں کے درد میں مبتلا لوگوں کو سبزی کا استعمال زیادہ کرنا چاہئے۔
ان لوگوں کو ممکن ہے کہ گردوں کی تکالیف بھی لا حق ہوں ۔گردوں کی فعالیت برقرار رکھنے کے لئے پانی پر مشتمل سلاد کے پتے بے حد کار آمد اور مفید ثابت ہوتے ہیں ۔اگر یورک ایسڈ ہڈیوں کے جوڑوں میں جمع ہوگا تو درد کا باعث بننے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے اس لئے اس تکلیف دہ صورتحال اور جوڑوں میں کھنچاؤ سے محفوظ رہنے کیلئے سلاد کھانا معمول بنا لینا چاہئے۔
الزائمر اور دیگر ذہنی بیماریوں سے بچاؤ کے لئے
اعصابی تھکان ،پر مژدگی اور افسردگی دور کرنے اور ذہنی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لئے سلاد کا پتا بہترین انتخاب ہو سکتا ہے ۔ماہرین غذائیت کے مطابق سلاد میں موجود وٹامنK،وٹامنAکے باہمی امتزاج سے ہڈیوں کی بیماریوں کے لئے تریاق بنتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ شیریانوں کی تنگی بھی دور کرتا ہے ۔یادداشت کی کمزوری دور کرنے میں جہاں بادام، گاجراورمصری اہم کردار ادا کیاکرتے ہیں وہیں سلاد کے پتے کا ذکر کرنا ضروری ہے ۔
الزائمر یا نسیان ایسا مرض ہے جس کے غذائی علاج کے لئے روزانہ 3مختلف قسم کے پھل ،غذائی علاج کے لئے اومیگا3 فیٹی ایسڈ ،جسمانی ورزش کا ہونا ضروری ہے جبکہ غذائی سیچوریٹڈ،فیٹی ایسڈز سے پر ہیز بہت ضروری ہے ۔سلاد کا پتا الزائمر پارکنسن ان دونوں امراض کے لئے مفید ہے ۔
جسم میں پانی کی کمی دور کرنے کے لئے
اس سبزی میں 95%فیصد پانی موجود ہے اس لئے جسم میں پانی کی کمی دور کرنے کا مجرب نسخہ ہے ۔
جوں ہی جسم میں پانی کی کمی واقع ہوتی ہے توانائی بھی حد درجہ متاثر ہوتی ہے ۔بہتر ہے کہ صاف اور ابلا ہوا پانی زائد مقدار میں استعمال کیا جائے یا اگر ایسا نہ کرسکیں تو سبزی اور پھلوں کا استعمال بڑھادیا جائے گردوں کو کسی بھی بڑی آزمائش میں مبتلا کرنے سے بہتر ہے کہ سلاد کے پتے دن کے مختلف حصوں میں کھالئے جائیں اس طرح جسم کو فائبر بھی ملے گا اور اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ ایک بڑے پتے میں محض 5کیلوریز ہوتی ہیں جو ہر گز بھی موٹا پے کا سبب نہیں بن سکتیں ۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں