111

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرنے والے صحافی بھی موجودہ حکومت کی دیانتداری کے معترف

پی ٹی آئی کی حکومت کم از کم بد دیانت نہیں ہے، لیکن ان کی وجہ سے میڈیا ہاؤسز میں ڈاؤن سائزنگ ہو رہی ہے

سینئیر صحافی و تجزیہ کار حسن نثار جو آج کل حکومت پر تنقید کرنے کی وجہ سے خبروں کی زینت بنے
  ہوئے ہیں، ایک خوبی پر حکومت کے معترف ہو گئے۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں حسن نثار سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مسلم لیگ ن کی حکومت سے بہتر ہے جس پر حسن نثار نے کہا کہ کم از کم موجودہ حکومت بد دیانت نہیں ہے۔لیکن ساتھ ہی انہوں نے موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر ہم میڈیا کی بات کریں تو بتائیں کہ حکومت کیا کر رہی ہے؟ ان سے کچھ اور کنٹرول نہیں ہوتا اور اب زبانیں بھی کنٹرول نہیں ہو رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں اس شعبے کی بات کروں جس سےمیرا تعلق ہے تو میڈیا میں بےروزگاری عروج پر ہے۔

یہ لوگ میڈیا کے ساتھ جو کر رہے ہیں ، ایسا کر کے حکومت اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار رہی ہے۔موجودہ حکومت جھک مار رہی ہے۔ شفقت محمود جیسے لوگ سنجیدہ ہیں اور اپنی اپنی جگہ پر خاموشی سے کام کر رہے ہیں۔ میری سمجھ سے باہر ہے کہ یہ لوگ جو اتنی باتیں کر رہے ہیں یہ کام کس وقت کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کا پورا یقین ہے کہ کوئی بھی وزیراعظم کو اس بات کا بتا ہی نہیں رہا ہو گا کہ ہو کیا رہا ہے۔ اب تو اپر مڈل کلاس بھی پریشان ہے۔اگر ان کی کارکردگی کا لیول یہی رہے گا تو پھر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کر لے ۔ اگر کوئی معجزہ نہ ہوا تو پھر ڈھائی ماہ بعد تماشہ دیکھنے لائق ہو گا۔ لوگ سڑکوں پر آجائیں گے۔ حسن نثار نے کہا کہ یہ لوگ مرغی چور کو پکڑ رہے ہیں لیکن جنہوں نے پورے کے پورے پولٹری فارم اُجاڑ دئے ہیں ان کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹیاں ہیں کیونکہ یہی روایت ہے۔اپوزشین کے جن لوگوں کو جیل میں ڈالا جا رہا ہے صحیح ہو رہا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو ڈالا جا رہا ہے۔ ان کے پروٹوکول ان کے خرچے ، آمدورفت میں ان کے اخراجات اور منسٹرز کالونی میں ان کی رہائش کے علاوہ ان کو اور کچھ نہیں چاہئیے۔ ملک میں 3 کروڑ عوام بے گھر ہیں اور اگر اوسطاً ایک خاندان میں 5 افراد ہوں تو یہ تعداد 15 کروڑ تک پہنچ جاتی ہے۔یہ لوگ جن جیلوں میں بیٹھے ہیں وہاں تو لان بھی ہے۔حسن نثار نے حکومت اور ریاستی اداروں کے ایک پیج پر ہونے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہاکہ ایک پیج پر ہونا کمال نہیں ہے، ایک پیج پر رہنا کمال ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس متکبر رویے کے ساتھ حکومت ریاستی اداروں کےساتھ کب تک ایک پیج پر رہتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں