85

مالٹا

پھل رب جلیل کی نعمت ہیں ۔پھلوں میں شکریلے اجزاء اور جسم کو توانائی و حرارت پیدا کرنے والے نیز حیاتین (وٹامنز)کی مختلف اقسام بکثرت موجود ہوتی ہیں ۔انہیں غذائی ادویہ بھی کہا جا سکتا ہے ۔پھلوں کی ایک اہم خوبی ان کا زود ہضم ہونا ہے،اس طرح نہ صرف یہ خود ہضم ہو کر فرحت کا احساس دلاتے ہیں بلکہ غذا کے ہاضمے میں مدد دیتے ہیں ۔ان پھلوں میں ایک مالٹا ہے جو ہمارے ہاں بکثرت ہوتا ہے ۔اور اسی تناسب سے استعمال ہوتا ہے۔
نارنگی،سنگترہ،جاپانی پھل(پرسمین)کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے ۔یہ خاندان ترشادہ کہلاتا ہے ۔
ترشادہ پھلوں (سٹرس فروٹس)کا شمار غذائی اعتبار سے اہم پھلوں میں ہوتا ہے تاہم ہر ایک کی رنگت،
خوشبو ،ذائقہ اور تاثیر الگ الگ ہے ،لیکن مالٹا رنگت،خوشبو،ذائقہ اور تاثیرکے لحاظ سے اپنا منفرد مقام رکھتا ہے،مالٹامسمی کے مقابل بڑا اور زیادہ ترش ہوتا ہے ۔

پاکستان میں اس کی ایک اور قسم کی کاشت بھی خوب ہونے لگی ہے جو اندر سے سرخ اور چقندری رنگ کی ہوتی ہے ،اس حوالے سے یہ ریڈبلڈ کہلاتی ہے۔
مالٹا تمام عمر کے لوگ بڑی رغبت سے استعمال کرتے ہیں اور ہر عمر کی لوگوں کے لئے یکساں مفید ہے ۔
اس کے کیمیائی اجزاء میں سڑک ایسڈ اور حیاتین ج(وٹامن سی)بکثرت ہوتے ہیں ۔اس کے علاوہ معدنی نمک مثلاً کیلشےئم،میکنیشےئم،فولاد،پوٹاشےئم،فاسفورس ،جست اور تانباوغیرہ بھی ہوتے ہیں ۔مالٹے کا جوس (رس)ہاضم ہوتا ہے جسم کی قوت مدبرہ کی اصلاح کرتا ہے ۔دل ودماغ کو فرحت بخشتا اور معدہ کو قوت دیتا ہے ۔ 
صالح خون پیدا کرتا ہے جس سے رنگت صاف اورچہرے پر نکھار آتا ہے ۔شدت گرمی میں اس کا استعمال گرمی سے تسکین دیتا ہے ۔یوں یہ موسمی شدتوں سے بچاتا ہے ۔ویسے بھی قدرتی نظام کے تحت پھل اپنے موسمی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں ۔حدت اور گرمی کم کرنے کے لئے یہ قدرتی ٹانک ہے ،گرمی اور زہروں کو ختم کرتا ہے ۔وہم اور وحشت میں فائدہ دیتا ہے ۔طبیعت میں چستی وفرحت پیدا کرتا ہے ،
مالٹا زودہضم ہے اور حلق سے نیچے اترتے ہی خون میں شامل ہوجاتا ہے ،نیز غذا کے ہاضمے میں مدد دیتا ہے ۔
طب کے نکتہ نگاہ سے مالٹا صفرا کو کم کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ صفر اوی بخاروں میں مفید ہے ۔مالٹے کا رس استعمال کرنے سے طبیعت کو تسکین ملتی ہے ،دل و دماغ کو فرحت کا احساس ہوتا ہے اور جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے ۔اس کے پھول میں معدنی اجزاء کافی مقدار میں ہوتے ہیں یوں اس کا صرف رس ہی استعمال نہیں کرنا چاہئے بلکہ پھوک بھی کھا لینا چاہئے۔اس طرح یہ پھل غذائیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ریشہ(فائبر)بھی فراہم کرتا ہے جو قبض کے لئے مفید ہے ۔
ریشہ کے اور بھی بہت فوائد ہیں ۔مالٹے میں چونکہ مٹھاس کم ہے اس لئے ذیابیطس(شوگر)کے مریضوں کے علاوہ ان کے لئے بھی فائدہ مند ہے جو موٹاپے سے نجات چاہتے ہیں ،مالٹے کا چھلکا جس قدر پتلا ہوگا اسی قدر غذائی اجزاء سے موٴثر ہوگا اور ذائقہ بھی اچھا ہوگا ۔اس کے چھلکوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے سکھالیں تو چاولوں کو خوشبودار بناتے ہیں ۔
اور ہمارے ہاں گھروں میں انہیں اس طرح استعمال کیا جاتاہے ان چھلکوں کا مربہ اور ابٹن بھی بنایاجاتا ہے اس ابٹن سے نہ صرف چہرے کے داغ دھبے اور چھائیاں دور ہوتے ہیں بلکہ چہرے کی جلد میں قدرتی نکھار پیدا ہوتاہے۔
البتہ یہ بات پیش نظر رہے کہ وہ لوگ جن کو نزلہ زکام اور کھانسی کا عارضہ ہو وہ مالٹے کا استعمال نہ کریں کیونکہ ان عوار ضات میں مالٹا استعمال کرنا مضر ثابت ہوسکتا ہے ۔وہ لوگ جن کا گلا ترش اشیاء کا متحمل نہیں ہوسکتا انہیں اس کے ساتھ کالی مرچ اور تھوڑا نمک لگا کر کھانا چائے،قدرت کا یہ خوبصورت خوش ذائقہ پھل جام زریں ہے اور اس موسم میں اس جام زریں سے خوب محفوظ ہوں ۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں