60

فیسوں میں کمی کے بعد سکول مالکان نے سہولتیں کم کر دیں

سکول انتظامیہ نے سرد موسم میں ہیٹر بند کر دیے ہیں۔ والدین کا سہولتوں میں کمی کا شکوہ

لاہور ۔ (
ویب ڈیسک  ۔ 18 جنوری2019ء) سپریم کورٹ کی جانب سے سکول کی فیسوں میں کمی کی گئی تو سکول مالکان نے بھی سہولتیں کم کردی ہیں جس کے باعث والدین سخت اضطراب کا شکار ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ والدین نے سہولتوں میں کمی کا شکوہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سکول انتظامیہ نے سرد موسم میں ہیٹر بھی بند کر دیے ہیں۔دوسری جانب صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکول فیڈریشن کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ تمام پرائیویٹ اسکول عدالتی فیصلے پر عمل کررہے ہیں اور پہلے دن سے سپریم کورٹ کا فیصلہ من و عن تسلیم کرتے ہیں۔13 دسمبر سے فیصلہ پر نجی سکول مکمل عمل کر چکے ہیں۔ واضح رہے سپریم کورٹ نے نجی سکولوں کی جانب سے زائد فیسوں کے حوالے سے کیس کا فیصلہ سنادیا ہے اورحکم جاری کیا ہے کہ 5 ہزار سے زائد فیسیں وصول کرنے والے نجی سکول فیسوں میں 20 فیصد کمی کریں ۔

جمعرات کو جا ری کردہ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ 20 فیصد کمی کے حکم کا اطلاق ملک بھر کے تمام ان نجی سکولوں پر ہوگا جو 5 ہزار سے زائد فیسیں وصول کر رہے ہیں۔تاہم 5 ہزار سے کم فیس وصول کرنے والے نجی تعلیمی ادارے اس فیصلے سے مستثنی ہوں گے،سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ طلباء اور والدین کم فیس جمع کرائیں اور والدین مقررہ وقت پر فیسیں ادا کریں،عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فیسوں پر کمی سے اسکالر شپس اور اسکول کی سہولیات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، اور نجی سکول مالکان اساتذہ کی تنخواہوں میں کوئی کمی نہیں کریں گے، فیصلے کے مطابق اس ملک میں قانون اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی ، حد یہ ہے کہ نجی سکولوں نے عدالتی حکم کے بارے میں والدین کو تضحیک آمیز خطوط لکھ کران پردبائوڈالا ہے ، تاہم جن اسکولوں نے والدین کوتضحیک آمیز خطوط لکھے ان کو نوٹس جاری کئے جائیں گے کہ متعلقہ سکول مالکان وضاحت کریں کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے،تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کوہدایت کی کہ سکولوں سے قبضے میں لئے گئے ریکارڈ کی کاپیاں کرکے ریکارڈ واپس کیاجائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں