41

سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق کابینہ نے دو نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹانے کی منظوری دے دی

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار کی نجی ٹی وی چینل سے بات چیت

اسلام آباد ۔ (
ویب ڈیسک 18 جنوری2019ء) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے مطابق وفاقی کابینہ نے دو ناموں کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے ہٹانے کی منظوری دے دی ہے۔ جمعرات کو ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی سفارشات کے بعد حکومت نے بلاول بھٹواور مراد علی شاہ سمیت 172 افراد کے نام ای سی ایل میں نامزد کیے لیکن عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد ان دونوں کے ناموں کو ای سی ایل سے ہٹا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف صرف احتساب کے عمل سے بچنے کے لیے حکومت پر بلاوجہ تنقید کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت قومی دولت لوٹنے والوں کو این آر او ہرگز نہیں دے گی۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے معاملات کو کامیابی کے ساتھ بہتر طریقے سے چلا رہی ہے اور اپنی موثروکارآمد پالیسیوں اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں سے ملک کو اقتصادی بحران سے باہر نکال رہی ہے۔گزشتہ حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے اپنی کرپشن اور غیر قانونی دولت چھپانے کے لیے قومی اداروں کو نقصان پہنچایا۔ سیاسی انتقام کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) ایک آزاد و خود مختار ادارہ ہے جو حکومت کے ماتحت نہیں، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے خلاف تمام کیسز گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں شروع ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں