129

سرسوں کا سود مند تیل

شہد ایک مفید مقدس غذا اور دوا بھی ہے۔شہد کو زمانہ قدیم ہی سے ایک پاک وطیب چیز سمجھا جاتا ہے اور بطور دوا وغذا استعمال کیا جاتا ہے ۔چقندر کی شکر کی ایجاد سے قبل شہد ہی کو مٹھاس کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔شہد ایک بے مثال بھر پور غذا اور دوا ہونے کے علاوہ ایک موٴثر قسم کی جراثیم کش تدبیر ہے ۔جدید تحقیقات طب وسائنس نے بھی اس پر مہر ثابت تسلیم کردی ہے کہ شہد میں کسی قسم کے جراثیم زندہ نہیں رہ سکتے ۔ جدید طب (ایلو پیتھی سسٹم آف میڈیسن )کی بنیادہی نظریہ جراثیم پر ہے ۔شہد جراثیم کش ہونے کے باعث نہ صرف جراثیمی امراض سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ اس میں کسی قسم کے جراثیم زندہ نہیں رہ سکتے ۔شہد کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ سڑتا نہیں ہے بلکہ دوسری چیز میں آمیز ہو کر اس کو بھی سڑنے سے بچاتا ہے ۔ شہد ہر حال میں ہر موسم اور ہر عمر میں مفید غذائی دوا ہے ۔ ذیابیطس کے مریض کو میٹھی اشیاء کے استعمال سے احتیاط کا مشورہ دیا جاتا ہے لیکن شہد ان کو بھی نقصان نہیں دیتا۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جتنی نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان میں شہد اور دودھ کو اہمیت حاصل ہے ۔ شہد انسان کی اولین اور آخری غذا ہے ۔نوزائیدہ بچے کو بطور گھٹی چٹایا جاتا ہے تو جاں بلب مریض کو بھی دیا جاتا ہے ۔البتہ خالص شہد کا حصول آسان نہیں ہے ۔ بازار میں دھڑلے سے نقلی شہد فروخت ہورہا ہے جس سے مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہوتے ۔چھوٹی چھوٹی بیماریوں ،نزلہ،زکام اور کھانسی میں بڑی بوڑھیاں شہد تجویز کرتی ہیں تو بازاری شہد سے مطلوبہ فوائد نہیں ملتے۔جس کی وجہ سے لوگوں کا اس کے حقیقی فوائد سے یقین اٹھ جاتا ہے ۔ورنہ شہد ایک قدرتی ،لاجواب ٹانک ہے اور کوئی وٹامن یا مصنوعی ٹانک اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اگر چہ سائنسدانوں نے اس کے کیمیائی اجزء معلوم کرلئے ہیں مگر اس کے باوجود خالص شہد تیار کرنے سے قاصر رہے ہیں ۔ شہد کی ایک خوبی اس کا سریع الاثر ہونا ہے ۔کھانے سے قبل ہی اس کا نوے فیصد ہضم شدہ اور معدہ میں اترتے ہی جزوبدن بن جاتا ہے ۔جس سے فوراً توانائی کا احساس ہوتا ہے اس سے حاصل شدہ توانائی دیرپارہتی ہے ۔ رومن موٴرخ پلوٹارک نے قدیم برٹش کے لوگوں کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کی عمر طویل ہونے کا سبب شہد کا بکثرت استعمال تھا۔ قدیم یونانی فلاسفر بھی شہد کو طویل عمر والا مانتے ہیں ۔دیکھا گیا ہے کہ جن علاقوں میں شہد کا استعمال کیا جاتا ہے وہاں کے لوگ طویل العمر ہوتے ہیں اس سلسلے میں وسطی ایشیا کی ریاست آذربا ئیجان کا نام لیا جا سکتا ہے ۔ شہد تقریباً ہر مرض میں موٴثر ومفید ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ سوائے موت کے ہر مرض کا علاج ہے ۔ڈاکٹر جی این ڈبلیو تھامس ایڈنبراسکاٹ لینڈ کا کہنا ہے کہ خرابی ہضم کے کئی مریضوں میں اختلاج قلب کا بھی عارضہ تھا۔ میں نے شہد کا تجربہ کیا اور اسے دل کی بے ترتیب حرکت کو درست کرنے اور مریض کو قوت دینے والی عجیب مقوی چیز پایا۔ اسی طرح ڈاکٹر آرنلڈ جو معروف عالمی ماہر غذائیہ ہیں نے شہد کے فوائد اور مختلف مواقع پر اس کے استعمال کے طریقے بتائے ہیں ۔یونانی محکمہ حفظان صحت کے افسر اعلیٰ ڈاکٹر جے ایچ کیو ج نے اپنی کتاب ”جدید غذائیہ میں لکھا ہے : ”کسی طویل بیماری میں مثلاً محرقہ یا نمونیہ وغیرہ میں مریض کا ہاضمہ کمزور ہو جاتا ہے ،ایسی صورت میں جب مریض کا دل بھی کمزور ہوتو شہد عمدہ تدبیر ہے۔ “ ہاپکنیز یونیورسٹی کے پروفیسر ای وی میکا کہتے ہیں کہ شہد بہترین حفاظتی و مدافعتی تدبیر ہے ۔امریکن ڈاکٹر کلینٹس جار دس کا کہنا ہے کہ اگر جسم کے اندر معدنی اجزاء کم ہوں تو اسے پورا کرنے کا آسان نسخہ یہ ہے کہ دو چمچے سیب کے سرکہ میں اتنا ہی شہد ملا لیا جائے یہ ترش مرکب گھٹیا مرض سے لے کر دمہ تک اور بچپن سے بڑھاپے ،نیز جلد کے امراض تک تمام امراض میں شفاء بخش ہے ۔ روسی عوام آگ سے جلے ہوئے کا علاج شہد سے تیار کردہ ایک مرہم سے کرتے ہیں ۔ یہ مرہم آسانی سے ہر گھر میں بنایا جا سکتا ہے اس طرح کہ شہد اور مچھلی کا تیل مساوی وزن لے کر اچھی طرح حل کرکے متاثرہ حصہ پر لگایا جائے۔روس میں یہ مرہم اب تجارتی بنیادوں پر تیار اور فروخت ہوتا ہے ۔برطانیہ کے ایک ثقہ طبی مجلہ”Lancet“میں شہد کے اثرات کے بارے میں سرٹامس نے 1925میں اپنے مشاہدات تحریر کئے۔ ”ہمارا طریقہ تھا کہ تیز بخار کے مریضوں کو کمزوری کے لئے دودھ اور یخنی دیا کرتے تھے ۔کچھ دوستوں کے مشورے پر ہم نے شدید نمونیہ کے مریضوں کو بیماری کے چار دنوں میں دو پونڈ شہد کھلایا،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مریض کا بخار دوتین یوم میں اتر گیا،اس کی نبض باقاعدہ تنومندرہی ،جسم پر کمزوری کا کوئی اثر نہ تھا،بعد میں بخار بھی نہ ہوا ،پھیپھڑے بھی تندرست ہوئے اور کوئی پیچیدگی بھی ظاہر نہ ہوئی۔“

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں