53

حکومت خواتین کے تحفظ سمیت عوامی فلاح و بہبود کے لیے متعدد قوانین کی منظوری چاہتی ہے،

اپوزیشن پارلیمان میں آ کر صرف نیب پر تقریر کر کے واپس چلی جاتی ہے، عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا اپوزیشن کا ایجنڈا ہی نہیں اور نہ ہی ان کی اس میں کوئی دلچسپی ہی ہے، نظام چلانے اور بہتر قانون سازی کے لیے ہم پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ دونوں کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں ، یہ دونوں جماعتیں اپنی قیادت کے لیے این آر او مانگنے کی ضد نہ کریں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ (
ویب ڈیسک 18 جنوری2019ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریاتچوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ حکومت خواتین کے تحفظ سمیت عوامی فلاح و بہبود کے لیے متعدد قوانین کی منظوری چاہتی ہے لیکن اپوزیشن پارلیمان میں آ کر صرف نیب پر تقریر کر کے واپس چلی جاتی ہے، عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا اپوزیشن کا ایجنڈا ہی نہیں اور نہ ہی ان کی اس میں کوئی دلچسپی ہی ہے، نظام چلانے اور بہتر قانون سازی کے لیے ہمپیپلز پارٹی اور (ن) لیگ دونوں کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں لیکن یہ دونوں جماعتیں اپنی قیادت کے لیے این آر او مانگنے کی ضد نہ کریں ،پی اے سی پر بھی ہم نے بھاری دل سے (ن) لیگ کی بات مانی کیونکہ ہم عوامی فلاح و بہبود کے لیے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

نیب کا بطور ایک ادارہ اور بالخصوص نیب کے چیرمین جاوید اقبال کے ساتھ میرا بہت احترام کا تعلق ہے، نیب ایک آزادو خود مختار ادارہ ہے جس کے لیے آصف زرداری ،شہباز شریف اور میرے سمیت ہم تینوں کا تعلق ایک جیسا ہی ہے کیونکہ نیب نہ ہمارے ماتحت ہے اور نہ ہی اپوزیشن کے ،آصف زردارینے اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران نیب پر کڑی تنقید کی تھی اور چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ میں بلانے کا کہا جبکہ اس سے قبل شہباز شریف نے بھی اسمبلیمیں اپنی تقریر میں نیب پر بہت تنقید کی تھی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے فی الحال بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے ریویو میں بھی جا سکتے ہیں جس کے لیے وفاقی وزیر قانون کی ذمہ داری لگا دی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں اور اگر مناسب سمجھیں تو ریویو میں جائیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے بحثیت جماعت تو ہمارا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، مسئلہ تو صرف یہ ہے کہ پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ آصف زرداری کی کرپشن پر معافی دے دیں اور آگے چلیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) والے کہتے ہں کہ نواز شریف کی کرپشن پہ کوئی بات نہ کریں، انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کا جے آئی ٹی کا معاملہ ہم نے شروع نہیں کیا بلکہ 2015ء میں چوہدری نثار کے دور میں یہ تحقیقات شروع ہوئیں اور 2016ء میں چوہدری نثار نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بلاول ہائوس کے اخراجات سمیت اومنی گروپ کے تمام معاملات ان جعلی اکائونٹس کے ذریعے چل رہے ہیں اور نواز شریف کے پاناما پیپرز بھی ہم نہیں لے کر آئے بلکہ آئی سی آئی جے نے یہ معاملہ اٹھایا، ماضی میں نواز شریف اور آصف زرداری ایک دوسرے کی کرپشن پر مک مکا کر کے مل بیٹھتے تھے اور کوئی بھی اس معاملے کو اٹھاتا تک نہیں تھا لیکن وزیراعظم عمران خاننے ایسا اپ سیٹ کر دکھایا کہ وہ ان دونوں جماعتوں سے بھی زیادہ سیٹیں جیت گئے اس لیے اب ہم پی ٹی آئی وہ کام ہرگز نہیں کر سکتی جو آصف زرداریاور نواز شریف ماضی میں مک مکا کر کے کرتے رہے کیونکہ ایسا کرنے سے تو ہماری سیاست ہی بیٹھ جائے گی جو ہم کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کہتے رہتے ہیں ان کی ماضی میں کہی گئی باتیں بھی پوری نہیں ہوئیں، تبدیلی اسمبلی سے ہی آنی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب قانون پر اپوزیشن اور وفاقی وزیر قانون میں تقریباً 7 میٹنگز ہو چکی ہیں، انہوں نے کہا کہ قانون سازی بھی ضروری ہے لیکن پاکستان کا اصل مسئلہ قانون پر عملدرآمد کا ہے جو ناگزیر ہے، نظام چلانے اور بہتر قانون سازی کے لیے ہم پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ دونوں کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں لیکن یہ دونوں جماعتیں اپنی قیادت کے لیے این آر او مانگنے کی ضد نہ کریں، پارلیمانی نظام میں حکومت کے تمام اداروں کا یکجان ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ اگر یہ حکومتی ادارے یکجان نہیں ہوں تو معاملہ نہیں چلتا۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ حکومت خواتین کے تحفظ سمیت عوامی فلاح و بہبود کے لیے متعدد قوانین کی منظوری چاہتی ہے لیکن اپوزیشن پارلیمان میں آ کر صرف نیب پر تقریر کر کے واپس چلی جاتی ہے، عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا اپوزیشن کا ایجنڈا ہی نہیں اور نہ ہی ان کی اس میں کوئی دلچسپی ہی ہے، پی اے سی پر بھی ہم نے بھاری دل سے (ن) لیگ کی بات مانی کیونکہ ہم عوامی فلاح و بہبود کے لیے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں