95

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاکستان کے 26 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اُٹھا لیا

صدر مملت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس آصف سعید کھوسہ سے حلف لیا

اسلام آباد (
ویب ڈیسک 18 جنوری 2019ء) : جسٹس آصف سعید کھوسہ نےپاکستان کے 26 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اُٹھا لیا۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کی بطور چیف جسٹس حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی جہاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس آصف سعید کھوسہ سے حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم عمران خان ، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، چئیرمینسینیٹ، سپریم کورٹ کے موجودہ، سابق ججز ، مختلف ممالک کے عدالتی نظام میں اہم عہدوں پر فائز غیر ملکیوں نے بھی شرکت کی۔ترک سپریم کورٹ کے صدر جسٹس نارین فردی، ناردرن سائپریس عدالت کے صدر جسٹس قاشم نائیجریا بورنو کے جسٹس بی مارولوکر اور بھارتی سپریم کورٹ کے سابق صدر اور سینئرجج مادان بیماراؤ بھی جسٹس آصف سعید کھوسہ کی حلف برداری تقریب میں شریک تھے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ 21 دسمبر 1954ء کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے ، وہ اپنی تعلیمی قابلیت اور سب سے زیادہ فیصلے تحریر کرنے کے حوالے سے منفرد مقام رکھتے ہیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 1969ء میں میٹرک کے امتحان میں ملتان بورڈ سے پانچویں جبکہ 1971ء میں انٹرمیڈیٹ میں لاہور بورڈ اور 1973ء میں پنجاب یونیورسٹی سے پہلی پوزیشنز حاصل کیں اور اسی یونیورسٹی سے 1975ء میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، انہیں تین بار نیشنل ٹیلنٹ اسکالرشپ سے نوازا گیا۔ کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ سے 1977ء اور 1978ء میں انہوں نے قانون کی دو ڈگریاں حاصل کیں، تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ 1979ء میں ملک واپس آئے اورلاہور ہائی کورٹ سے وکالت کا آغاز کیا اور 1985ء میں سپریم کورٹ کے وکیل کا درجہ ملا۔1998ء میں جسٹس آصف سعید کھوسہ لاہور ہائی کورٹ جبکہ 2010ء میں سپریم کورٹ کے جج منتخب ہوئے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کئی اہم کیسز کی سماعتکرنے والے بینچز کاحصہ رہے، انہوں نے چارکتابیں بھی تصنیف کیں۔ جسٹس آصف سعد کھوسہ کا شمار لاہور ہائیکورٹ کے ان ججز میں ہوتا ہے جنہوں نے 3 نومبر 2007ء میں آمر پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے بعد پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کیا تھا۔جسٹس آصف سعد کھوسہ نے بطور جج قریبا 19 سال اپنی خدمات دیں۔اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے 55 ہزار کیسز نمٹائے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نےپاکستان میں سست جوڈیشل سسٹم کے باوجود 2014ء سے 2018ء تک چار سال کے دوران دس ہزار فوجداری مقدمات نمٹا کر زیر التوا مقدمات نمٹانے میں اہم کردار ادا کیا اور ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ یہ مقدمات 1994ء سے زیر التوا ہیں جب کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ مقدمات کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرنے کی بجائے عدالت میں فیصلہ سناتے ہیں۔واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بطور چیف جسٹس تقرر کی سمری پر پہلے ہی دستخط کر چکے ہیں۔ پاکستان کے 26 ویںچیف جسٹس جسٹس آصف سعید خان کھوسہ 20 دسمبر 2019ء کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے، جس کے بعد جسٹس گلزار احمد چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں