42

لاہور پارکنگ کرپشن کیس

ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 دن کی توسیع

لاہور(
ویب ڈیسک  17 جنوری2019ء) احتساب عدالت نے لاہور پارکنگکرپشن کیس میں ملوث مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے حافظ نعمان سمیت تین ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 دن کی توسیع کر دی ہے اورملزمان کو دوبارہ 31 جنوری کو احتساب عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا ہے احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے کیس کی سماعت کی،سماعت کے دوران نیب کے تفتیشی افسر کی جانب سے ملزمان کے خلاف رپورٹ پیش کی گئی، رپورٹ پیش کرتے ہوئے نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ حافظ نعمان کو لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت خارج ہونے کے بعد نیب نے گرفتار کیا تھا،نیب کی جانب سے لاہور پارکنگ کرپشن کیس میں پانچ ملزمان کو گرفتار کیا گیا،انہوں نے کہا کہ لاہورپارکنگ کمپنی میں مالی بد عنوانی اور پیپرا رولز کی خلاف ورزی کے الزام میں پانچوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا،گرفتار ملزمان میں چیف ایگزیکٹوآفیسر تاثیر احمد, چیف فائنینشل آفیسرعثمان قیوم ، جنرل مینجر فیضان ولی, مینجر اکاؤنٹس سعد رفیق شامل ہیں جبکہ نیشنل ٹیکنالوجی گروپ کے سی ای او فیصل راؤ کو بھی گرفتار کیا گیا؂ ، پانچ میں سے تین ملزمان کو پلی بارگین کے ذریعے رہا کر دیا گیا تھا،ملزم تاثیر احمد اور عثمان قیوم کو جسمانی ریمانڈ کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا،انہوں نے بتایاتمام ملزمان نے آپس کی ملی بھگت سے پیپرا رولز کو پامال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر پارکنگ کنٹریکٹ گرین پارک اور این ٹی جی گروپس کو دیا،ملزمان کے اس غیرقانونی اقدام سے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا، سماعت کے دوران ملزم حافظ نعمان نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2008میں ایم پی اے منتخب ہوا اور لاہور پارکنگ کمپنی کا پہلا سربراہ مقرر ہوا اوررسمی طور پر بورڈ میٹنگ میں حصہ لیتا رہا،لاہورپارکنگ کمپنی سے کسی بھی مد میں ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا،لاہور پارکنگ کمپنی کے سربراہ کے طور پر قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں اور30دسمبر 2016 کو لاہورپارکنگ کمپنی کی سربراہی سے استعفی دے دیا، اس پر عدالت نے مزیدسماعت تک ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں14 دن کی توسیع کرتے ہوئے ملزمان کو دوبارہ 31 جنوری کو احتساب عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں