122

جنتا آپ نے اور آپ کے سرپرستوں نے بد نام کیا ضروری ہے ریفرنس بنے اور کورٹ آف لاء میں فیصلہ ہو ،سعد رفیق کی نیت پر تنقید

جب تک نیب میں عیب دور نہیں کریں گے تو حکومت کو بھی بھگتنا ہوگا، اللہ کریں آپ اسے نہ بھگتیں، نہیں چاہتے کہ آپ کو گرانے کے چکر میں پورا جمہوری نظام لپٹ جائے،کہ اپوزیشن کے اتحاد سے جمہوریت اور عوام کو فائدہ ہوگا، حکومت کو وقتاً وقتاً اس کا چہرہ دکھاتے رہیں گے

اسلام آباد (
ویب ڈیسک 17 جنوری2019ء) سابق وزیر ریلوے اور مسلم لیگ (ن)کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ نیب سے کہا ہے ریفرنس ضرور بنائیں ،جنتا آپ نے اور آپ کے سرپرستوں نے بد نام کیا ضروری ہے ریفرنس بنے اور کورٹ آف لاء میں فیصلہ ہو ،جب تک نیب میں عیب دور نہیں کریں گے تو حکومت کو بھی بھگتنا ہوگا، اللہ کریں آپ اسے نہ بھگتیں، نہیں چاہتے کہ آپ کو گرانے کے چکر میں پورا جمہوری نظام لپٹ جائے،کہ اپوزیشن کے اتحاد سے جمہوریت اور عوام کو فائدہ ہوگا، حکومت کو وقتاً وقتاً اس کا چہرہ دکھاتے رہیں گے۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ بے پناہ دباؤ کے باوجود اسپیکر کی جانب سے پروڈکشن آرڈر جاری کر کے بات کرنے کا حق دینے پر مشکور ہوں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جیل کی سلاخوں کی پیچھے سے ایک سیاسی کارکن جس کی اپنی سیاسی جدوجہد کی عمر 4 دہائیوں پر محیط ہے، ایک اور انداز میں ساری صورتحال کو دیکھ سکتا ہے، بطور پولیٹیکل کامریڈ اپنے لیے پریشان نہیں ہوں، نیب والوں کو کہا ہے کہ ریفرنس ضرور بناؤ، جتنا آپ نے اور آپ کے سرپرستوں نے بدنام کیا، اب ضروری ہے کہ ریفرنس بنے تاکہ کورٹ آف لاء میں اس کا فیصلہ ہو۔خواجہ سعد رفیق نے نیب کو عیب قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک عیب دور نہیں کریں گے تو حکومت کو بھی بھگتنا ہوگا، اللہ کریں آپ اسے نہ بھگتیں۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اپوزیشن کے اتحاد کو حکومت اپنے لیے خطرہ نہ سمجھے، برسوں کے تجربات سے بہت سیکھا ہے یہی وجہ ہے کہ روز گالیاں ملنے کے باوجود حکومت گرانا نہیں چاہتے لیکن چھوٹے موٹے جھگڑے ہوتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے بات کرتے رہیں گے اور نہیں چاہتے کہ آپ کو گرانے کے چکر میں پورا جمہوری نظام لپٹ جائے، چاہتے ہیں جو چاند تارے توڑ کر لانے کے وعدے کیے گئے تھے ان میں سے صرف 10 فیصد وعدے ہی پورے کرلیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ اپوزیشن کے اتحاد سےجمہوریت اور عوام کو فائدہ ہوگا، حکومت کو وقتاً وقتاً اس کا چہرہ دکھاتے رہیں گے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وزیراعظم کو مشورہ دیتا ہوں، ان سے بہت ناراض ہوں لیکن مشورہ ٹھیک دوں گا کہ وہ اپنے مخلص دوستوں کو بٹھائیں اور کنٹینر سے واپس آئیں، وہ پانچ ماہ کی حکومت کرچکے ہیں۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ 71 سال کی تاریخ ہے، یہاں خان ولی خان، اکبر بگٹی اور جی ایم سید کو غدار قرار دیا گیا، جو اس ملک میں آئین و قانون کی عملداری مانگتا ہے اسے غدار قرار دے دیا جاتا ہے، مجھے کوئی بتائے کہ یہ غدار کون پیدا کرتا ہی ۔رہنما (ن) لیگ نے کہا کہ سیاستدانوں کو آرام کرنے کا وقت نہیں ملتا، ان عناصر کا شکر گزار ہوں جن کی بدولت جیل گیا جہاں آرام بھی کرلیتا ہوں، کھانا بھی وقت پر کھا لیتا ہوں اور وقت پر نماز کی ادائیگی بھی ہوجاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں