117

پی آئی اے کا خسارہ بڑھنے کے حقائق سامنے آگئے

ماضی میں جہازوں کے ٹائراتارلیے جاتے تھے،فوڈ سروس غیرمعیاری،سیاسی مداخلت عام تھی،اب ورکرزاور میرے لیے ایک ہی کھانا ہوتا ہے، کسی بھی جہاز پران ہاؤس فلائٹ انٹرٹینمنٹ نہیں ہے۔ چیف ایگزیکٹو آپی آئی اے فیسر ارشد ملک کی پریس کانفرنس

لاہور(
ویب ڈیسک  اخبارتازہ ترین۔15 جنوری2019ء) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد ملک نے کہا ہے کہ ماضی میں جہازوں کے ٹائراتارلیے جاتے تھے، فوڈ سروس غیرمعیاری،سیاسی مداخلت عام تھی، اب جوکھانا میرے لیے ہوتا ہے وہی ورکرزکیلئے ہے، اب کسی بھی جہاز پران ہاؤس فلائٹ انٹرٹینمنٹ نہیں ہے۔انہوں نے آج پریس کانفرنس میں پی آئی اے کے خسارے میں جانے سے متعلق حقائق بتاتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسلام آباد کا زبردستی آغاز کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ماضی کے دور حکومت میں سامان لوڈ کرنے والی گاڑیوں کے ٹائر نہیں تھے۔ جہاز کھڑا کرکے پہیے اتار لیے جاتے تھے۔اسی جہازوں سے انجن اتار لیے جاتے۔ جہاز میں مسافروں سے نارواسلوک روارکھاجاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گندے کچن سے فلائٹ میں فوڈ سروس مہیا کی جاتی تھی۔

اب پی آئی اے کی فوڈ سروس بہت بہتر ہوگئی ہے۔ ارشد ملک نے کہا کہ آج جوکھانا میرے لیے پک رہا ہے وہی ورکرزکیلئے تیار کیا جاتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت کسی جہاز پران ہاؤس فلائٹ انٹرٹینمنٹ نہیں ہے۔یونین کے دفاترز سے جھنڈے اتار کرقائداعظم کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔پی آئی اے میں سیاسی مداخلت بالکل ختم کردی ہے۔جبکہ ماضی میں پی آئی اے میں سیاسی مداخلت عام تھی۔انہوں نے کہا کہ اب پی آئی اے میں قابل لوگ ہیں۔  دوسری جانب وفاقی وزیر ہوا بازی ڈویژن محمد میاں سومرو نے قومی اسمبلی میں پی آئی اے کی کوالالمپور سے پشاور پروازوں کی بندش کی طرف دلائے گئے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں ایوان کوآگاہ کیا کہ یہ پروازیں لوڈ فیکٹر کی وجہ سے بند ہوئی ہیں۔پشاور سے مارچ اپریل میں نائٹ لینڈنگ شروع کریں گے۔ وزیراعظم کے دورہ ملائیشیا پر اس بارے میں کمیونٹی نے بات کی تھی۔ شیر اکبر خان نے کہا کہ یہ پرواز رواں ماہ میں شروع کی جائے تاکہ محنت مزدوری کے لئے جانے والوں کو سہولت دی جائے یہ معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ یہ منافع بخش پرواز تھی۔ایک اور سوال کے جواب میں محمد میاں سومرو نے کہا کہ جہاز دستیابی پر یہ پرواز پہلے بھی شروع کی جاسکتی ہے ورنہ منصوبے کے تحت ہی ہوگی۔پشاور سے جانے والوں کا سامان پشاور سے ہی جاتا ہے۔ جہازوں کی قلت ہے جونہی جہاز دستیاب ہوں گے یہ سلسلہ شروع کردیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر سکینر لگے ہیں وہاں سے سامان گزرنے کے بعد دوبارہ نہیں کھلتا۔ یہاں تاخیر سے بچنے کے لئے تربیت دی جارہی ہے تاکہ وقت بچایا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں