59

سپریم کورٹ نے وزیراعظم کی اہلیت کے خلاف نظرثانی درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

نظر ثانی کی درخواست میں اٹھائے گئے دلائل نمائشی ہیں۔دلائل کا اصل کیس سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔دلائل کو پذیرائی بخشنا مقدمے کی دوبارہ سماعت کے مترادف ہو گا۔آرٹیکل 188کے تحت نظر ثانی کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔ چیف جسٹس کی جانب سے تحریر کیا گیا فیصلہ

اسلام آباد (
ویب ڈیسک تازہ ترین اخبار۔ 15 جنوری 2019ء) :وزیراعظم عمران خان کو صادق و امین قرار دینے کے خلاف نظرثانی کی درخواست سے متعلق سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیت کے خلاف نظرثانی کی درخواست پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نے دائر کی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔آج سپریم کورٹ نے مذکورہ درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کیا ہے ،میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریری فیصلہ 3 صفحات پر مشتمل ہے جو چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارنے خود تحریر کیا ہے۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ نظر ثانی کی درخواست میں اٹھائے گئے دلائل نمائشی ہیں۔دلائل کا اصل کیس سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔نظر ثانی کی درخواست میں دلائل پائیدار نہیں۔

دلائل کو پذیرائی بخشنا مقدمے کی دوبارہ سماعت کے مترادف ہو گا۔آرٹیکل 188کے تحت نظر ثانی کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔حنیف عباسی کے وکیل کے دلائل سے فیصلے پر نظر ثانی نہیں بنتی۔واضح رہے ایفیڈرین کوٹہ کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے ن لیگی رہنما حنیف عباسی کے وکیل نے جہانگیر ترین نااہلی کیس اور عمران خان کو صادق و امین قرار دینے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں کیلئے فل کورٹتشکیل دینے کی درخواستیں دائر کی تھیں۔سپریم کورٹ نے 15 دسمبر 2017 کو تحریک انصاف کے چیئرمین اور موجودہ وزیراعظم عمران خان کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہل قرار دینے کی آئینی درخواست خارج کر دی تھی جبکہ جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا تھا۔حنیف عباسی نے عمران خان کے حوالے سے فیصلے پر نظرثانی درخواست داخل کی تھی ،ْدرخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان اب وزیراعظم بن چکے ہیں جبکہ 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کیلئے سپریم کورٹ نے پانامہ فیصلے میں جو اصول قانون مرتب کیا عمران خان کے کیس میں سپریم کورٹ نے متضاد فیصلہ دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں