چنیوٹ میں سیلابی ریلوں کی تاریخ

سال 1992ء اور 1995ء کے سیلاب بھی تقریباً چھ سے ساڑھے چھ لاکھ کیوسک حجم کے تھے جن سے دریا کے قریب آباد نشیبی بستیوں اور دیہاتوں کو نقصان پہنچا۔

24 اگست 1996ء اور 28 اگست 1997ء میں ساڑھے آٹھ لاکھ اور نو لاکھ کیوسک کے سیلابی ریلوں نے چنیوٹ میں کافی تباہی مچائی جن سے فصلیں تباہ ہوئیں اور مویشی سیلاب کی نذر ہو گئے۔

2001ء سے 2004ء ہر سال نوے ہزار سے ایک لاکھ کیوسک کے سیلابی ریلے آئے اور ان چاروں سالوں میں پانی کی سطح نچلے درجے کے سیلاب کی سی رہی مگر دریا کے پیٹ میں آباد بستیوں اور قریبی نشیبی علاقوں میں اگی فصلوں کو نقصان پہنچا۔

آٹھ جولائی 2005ء کو تقریباً پونے چار لاکھ کیوسک کے سیلابی ریلے سے چنیوٹ کے ساتھ بھوانہ اور لالیاں کے قریبی علاقوں میں بھی درجنوں دیہات زیر آب آئے اور فصلوں کو متاثر کیا۔

پانچ اگست 2006ء کو تین لاکھ، پندرہ اگست 2007ء کو سوا لاکھ، یکم اگست 2008ء کو ایک لاکھ نوے ہزار، انتیس جولائی 2009ء کو 55 ہزار، 8 اگست 2010 کو پونے تین لاکھ،18ستمبر 2011ء کو سوا لاکھ، 5 اگست 2012 کو پونے دو لاکھ اور 17 اگست 2013 کو پونے چار لاکھ کیوسک کے سیلابی ریلے چنیوٹ کے مقام سے گزرے۔

ان سب سیلابی ریلوں نے صرف دریا کنارے آباد بستیوں کو کافی نقصان پہنچایا بلکہ کسانوں کی فصلیں بھی تباہ کر گیا۔

آٹھ ستمبر 2014ء کو تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ کیوسک کا آنے والا ریلا 1973ء اور 1988ء کے بعد تیسرا بڑا سیلاب تھا جس نے چنیوٹ میں بہت تباہی مچائی۔

پانی جھنگ روڈ تک پہنچ گیا جس کے سبب ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ سیلاب سے ضلع بھر میں 148 گاؤں اور 8,288 مکانات متاثر ہوئے جبکہ تقریباً ستائیس ہزار ایکڑ پر کاشت فصلیں زیر آب آئیں۔

2014ء کی تباہ کاریوں کو دیکھ کر بزرگ شہریوں کو 1973ء کے سیلاب کی یاد تازہ ہو گئی۔

چھہتر سالہ حاجی رضوان الحق چوہان انجمن شہریاں چنیوٹ کے صدر ہیں اور بتاتے یں کہ 1973ء میں شہر کی گلی محلوں میں پانی تھا مگر چالیس سال بعد بھی حکومت پانی کی ان موجوں کو قابو میں لانے کے لیے اقدامات نہ کرسکی جو کہ انتظامی نااہلی تھی۔

ضلعی حکومت کے ترجمان عمر حیات سپرا کے مطابق 2014ء کے سیلاب میں بائیس کشتیوں اور چار ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ریسکیوآپریشن میں ساڑھے چھ ہزار افراد کو پانی سے بچایا جبکہ دس فلڈ ریلیف کیمپوں میں 31241 افراد کا علاج اور 1,32,450 جانوروں کی ویکسی نیشن اور علاج  کیا گیا۔

گزشتہ برس دریائے چناب میں چنیوٹ کے مقام سے تقریباً سوا لاکھ کیوسک کا پہلا سیلابی ریلا گزرنے کے بعد پونے دو لاکھ کیوسک تک کے سیلابی ریلے گزرے۔ ان ریلوں میں اگرچہ پانی کا بہاؤ اتنا زیادہ نہ تھا مگر دریا کے قریب نشیبی آبادیوں کو جزوی نقصان پہنچا۔

رواں سال ایک بار پھر مون سون کی حالیہ بارشوں کے بعد دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے اور آج چنیوٹ سے پہلا سیلابی ریلا گزر رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا متوقع سیلاب کی آمد کے پیشِ نظر انتظامیہ کی طرف سے عملی حفاظتی اقدامات مکمل ہیں؟