سیاسی رہنماؤں کی جنم بھومی رجوعہ سادات کی حالتِ زار

شہر کی طرف جانے والی سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے

چنیوٹ شہر سے تقریباً سات کلو میٹر کے فاصلہ پر رجوعہ سادات کے نام سے ایک گاؤں آباد ہے۔ لگ بھگ بیس ہزار کی آبادی پر مشتمل اس گاؤں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ساڑھے دس ہزار ہے۔

اس جگہ کا نام رجوکا برادری کی نسبت سے رجوعہ اور سید برادری کی وجہ سے سادات ہے جسے ملا کر رجوعہ سادات کہا جانے لگا۔

رجوعہ کی سادات برادری چودہ سو عیسوی میں رہے پیر دولت شاہ کے مرید ہیں جن کی تعلیمات سے متاثر ہو کر تیس ہزار کے قریب مقامی ہندوؤں اور سکھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔

چند دہائیاں قبل سونے اور تانبے جیسی قیمتی دھاتوں کی دریافت کے باعث اس گاؤں نے مُلکی سطح پر خاصی شہرت حاصل کی تھی۔

تاہم اس گاؤں کے  باسیوں کا امورِ سیاست سے رشتہ زیادہ گہرا ہے جس کی واضح مثال یہاں سے منتخب ہونے والے سیاسی وزراء و اراکینِ اسمبلی ہیں جن میں سے کوئی وفاقی وزیر رہا تو کوئی ایک دہائی تک ایم این اے جبکہ ایم پی اے اور تحصیل ناظم بھی منتخب ہو چُکے ہیں۔

قیام پاکستان سے قبل سردار سید حسین شاہ 1930ء میں متحدہ ہندوستان کے ایم ایل اے رہ چُکے ہیں جبکہ سردار محمد علی شاہ کو 1985ء میں مسلم لیگ جونیجو کے پلیٹ فارم سے وفاقی وزیر ریلوے منتخب ہونے کا شرف حاصل ہے۔

image could not load

گاؤں میں سیوریج اور صفائی کا نظام انتہائی ناقص ہے

1988ء میں سردار ظفر عباس پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ایم این اے اور بعد ازاں دو دفعہ ایم پی اے منتخب ہوئے۔ اسی طرح سید حسن مرتضیٰ 2003ء اور 2008ء کے انتخابات میں ایم پی اے رہے۔

گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں 2001ء  سے 2009ء  تک تحصیل ناظم رہنے والے سید ذوالفقار علی شاہ کا تعلق بھی اسی گاؤں سے ہے۔

تاہم علاقہ میں زیادہ تر ترقیاتی کام 1960ء میں چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل جھنگ سردار سید احمد شاہ کے دور میں کروائے گئے۔

انھوں نے اپنے دورِ اقتدار میں بنیادی مرکزِ صحت، ویٹرنری ہسپتال، کھیلوں کے لیے گراؤنڈ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ  رجوعہ سادات کی غریب عوام کو پانچ مربع پر مشتمل کالونیوں کے مالکانہ حقوق بھی دلوائے۔

جھنگ روڈ اور فیصل آباد روڈ سے گاؤں کو نکلنے والی دو سڑکوں کی تعمیر بھی انہی کے دور میں ہوئی۔

بعد ازاں ق لیگ کے دور حکومت میں ایم این اے سردار سید طاہر شاہ نے 2005ء میں سوا دو کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے رجوعہ سادات میں سوئی گیس فراہم کی۔

image could not load

بنیادی مرکزِ صحت میں ڈاکٹر صرف تین دن موجود ہوتا ہے

مگر ان تمام اقدامات کے باوجود رجوعہ کے باسی تاحال بنیادی و جدید سہولیات سے محروم ہیں۔ گاؤں کی طرف جانے والی دونوں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے متعدد بار حادثات رونما ہو چُکے ہیں۔

موجودہ حکومت کی جانب سے ان سڑکوں کی مرمت کی مد میں آٹھ لاکھ روپے کی گرانٹ کا بورڈ تو لگایا گیا لیکن ابھی تک مرمت شروع نہیں کی گئی ہے۔

گاؤں میں قائم بنیادی مرکزِ صحت میں ڈاکٹر صرف ہفتہ کے آخری تین دن بیٹھتا ہے اور باقی دن یہ مرکز ویران پڑا رہتا ہے جس کے باعث لوگوں کو علاج معالجے کے لیے شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

علاقہ مکین سید مدثر کاظمی کا کہنا ہے کہ ہر دور میں یہاں سے سیاسی نمائندے منتخب ہوتے رہے ہیں جن کے حکمرانوں سے اچھے تعلقات رہے لیکن اس کے باوجود گاؤں میں ترقی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ان کے مطابق “بنیادی مرکز صحت میں ڈاکٹر نہ ہونے کے سبب مریضوں کو چنیوٹ یا پھر فیصل آباد لے جانا پڑتا ہے جبکہ سڑکیں خراب ہونے کی وجہ سے بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔”

انھوں نے بتایا کہ سابق ایم پی اے سید حسن مرتضیٰ نے پچاس لاکھ روپے کی لاگت سے گاؤں میں واٹر فلٹریشن پلانٹ لگوایا تھا لیکن یہ پلانٹ سہ پہر چار سے صبح دس بجے تک چلتا ہے اور سردیوں میں ان اوقات میں پانی بھر کر لانا ایک مشکل کام ہے۔

image could not load

گاؤن میں قائم واٹر پلانٹ صرف چند گھنٹوں کے لیے چلایا جاتا ہے

گاؤں کے رہائشی مظفر علی غوری کا کہنا تھا کہ سیاسی طور مضبوط پوزیشن کا حامل ہونے کے باوجود علاقے کی حالت اتنی بہتر نہیں ہو سکی جتنی ایک عام آدمی توقع رکھتا ہے۔

ان کے بقول “کوئی اجنبی رجوعہ میں آئے تو اس کا پہلا خیال یہی ہوتا ہے کہ یہ علاقہ ترقی کے لحاظ سے دوسرے علاقوں کی نسبت بہت اچھا ہوگا مگر فیصل آباد سے رجوعہ روڈ پر آتے ہی یہ سارے اندازے غلط ثابت ہو جاتے ہیں۔”

ان کا مؤقف تھا کہ رجوعہ کے سیاستدانوں نے ہر دور میں اقتدار کے مزے لوٹے لیکن حلقے میں چند ایک ترقیاتی کاموں کے سوا عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا۔

نو منتخب چیئرمین یوسی 21 سردار ذوالفقار حیدر شاہ اپنے علاقہ کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے پُر امید ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے اور ان کی ترجیحات میں سیوریج و صفائی کا نظام بہتر بنانا ہے۔

“گاؤں میں سیوریج سرے سے موجود ہی نہیں اور گندا پانی جوہڑوں کی شکل اختیار کر چُکا ہے جس وجہ سے بچوں میں جلدی و موذی امراض پھیل رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بارش کے بعد گلیوں میں پانی کھڑا ہونے سے آمد و رفت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور راہگیروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے یقین دہانی کروائی کہ وہ سڑکوں کی از سرِ نو تعمیر کے ساتھ ساتھ گاؤں میں ایک مستقل ڈاکٹر کی تعیناتی کے لیے آواز اٹھائیں گے اور اپنے علاقہ کو ایک مثالی گاؤں بنانا ان کا عزم ہے۔

بشکریہ: سجاگ چنیوٹ : علی رضا غوری