دریائے چناب میں دوسرا سیلابی ریلہ: ساٹھ دیہات زیر آب آنے کا خطرہ

امیر عمر چمن

image could not load

فلڈ کنٹرول چنیوٹ کے مطابق آج رات کے کسی بھی پہر میں دریائے چناب میں تین لاکھ ساٹھ ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزرے گا جس کے باعث دریا میں درمیانے درجے کا سیلاب آنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ چنیوٹ میں لاہور روڈ پر ایک بریچ موجود ہے جس کی وجہ سے اس علاقہ کو اس دفعہ زیادہ نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے اس لیے چنیوٹ کے ساٹھ دیہاتوں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جہاں سے مقامی افراد کا انخلاء شروع ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال تحصیل بھوآنہ کے علاقہ میں سیلاب کے دوران بند ٹوٹنے سے دریا نے اپنا رخ تبدیل کرلیا تھا اور تئیس دیہاتوں کا شہری علاقوں سے رابطہ دو ماہ تک منقطع رہا تھا تاہم ضلعی اور صوبائی حکومت کی طرف سے تاحال اس بند کو تعمیر نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سیلاب کے دوران ان دیہاتوں کو زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

ضلع چنیوٹ کی انتظامیہ نے سیلابی خطرے کے پیش نظر چنیوٹ کو سات سیکٹرز میں تقسیم کر کے ان میں سیلابی سنٹرز قائم کرتے ہوئے محکمہ مال، پولیس، ہیلتھ، زراعت، واپڈا، ٹیلی فون، لائیو سٹاک، انروائرمنٹ اور ٹی ایم اے کے عملہ کی ڈیوٹیاں لگا دی ہیں۔

image could not load

دریا میں درمیانے درجے کا سیلاب آنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق دریائے چناب میں ایک سے دو لاکھ کیوسک تک پانی آنے کی صورت میں سب سے پہلے سیکٹر لنگر مخدوم کے برج جھنڈیکے والا، سرگانہ، برج بودا، موضع بخش، جھنگڑ شاہ بہلول، برج چانگو، برج مال، جھنگڑ گلوتراں، برج عمر، برج لال اور سیکٹر نمبر 2 کے چھنی کھیوہ، چھنی چوڑ، گندالہ والا، برج ملکہ، دھن ہرلاں، چھنی ہرلاں، چھنی خضر، دھونی، ٹھٹھی عالم شاہ جبکہ سیکٹر نمبر 3 کے موضع کھڑکھن، برج بابل، چک متھرومہ، جھلار وہاب شاہ، جھلار مہر شاہ، یارے کےاور چک سرکار متاثر ہوں گے۔

اسی طرح سیکٹر نمبر 4 چنیوٹ رورل کے کوٹ میانہ، کوٹ روشن، ٹھٹھہ محمود اور سیکٹر نمبر 5 کے چھنی مہر شاہ، چھنی خیر شاہ، محلہ قاضیاں، رشیدہ، کوٹ عمر اور بابو راء جبکہ سیکٹر نمبر 6 کے بڑانہ کے موضع کھڑل، وڈا شاہ، مارو قلعہ، جھلار نتھو شاہ، ٹنڈیوانوالہ اور کلوکا شامل ہیں۔

تاہم سیکٹر نمبر 7 بھوآنہ کے مارل والا، تھالی، ملکے رجوکے، اوبھان، سکے سلولکے، احمد والا، ابولکے، شاہ فتح علی، فتح کوٹ تاجہ، ٹھٹھہ ویروکا، شاہمل، ہرسہ بلہ، کوٹ سعد سمیت پچپن دیگر دیہاتوں کی آبادی کو خطرہ لاحق ہے۔ جس کی وجہ سے ان تمام علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

فلڈ کنٹرول کے مطابق سیلابی پانی 10 لاکھ کیوسک تک آنے کی صورت میں ان سیکٹرز کے مزید انتیس دیہات اور 15 لاکھ کیوسک سے زائد آنے کی صورت میں سینتالیس مزید علاقوں کوخطرات لاحق ہوں گے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فوج کی دو کمپنیوں کی ڈیمانڈ کی گئی ہے جن کے لیے گورنمنٹ اسلامیہ کالج چنیوٹ میں کیمپ لگائے جائیں گے جبکہ محکمہ ہیلتھ سیلاب زدہ علاقوں میں بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ادویات کی مفت فراہمی اور ویکسینیشن کا انتظام کر رہی ہے اور مختلف علاقوں میں فری ڈسپنسریوں کا بھی قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔

محکمہ لائیو سٹاک ان علاقوں میں جانوروں کی فی الفور ویکسینیشن کا انتظام کرے گا تاکہ جانوروں میں کسی بھی قسم کی بیماری نہ پھیلے جبکہ ٹی ایم اے اور ریسکیو اہلکار سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس سلسلہ میں ضلع بھر کے تمام فلاحی اداروں کو بھی ساتھ ملا کر سیلاب زدہ علاقوں میں کام کیا جائے گا۔

Sujag Chiniot (Credit)

یہ بھی دیکھیں

جانئے بغیر کسی ہتھیار کے خطرناک ترین جنگلی جانوروں سے مقابلے کا آسان ترین طریقہ

اگر آپ نہتے ہوں اور کوئی شیر، چیتا یا ہاتھی حملہ کردے تو کس طرح بچاجاسکتا ہے؟ …