بچوں پر تشدد کرنے کا الزام‘ ڈی ٹی ایجوکیٹر کے خلاف کارروائی

بچوں پر تشدد کرنے کا الزام‘ ڈی ٹی ایجوکیٹر کے خلاف کارروائی

امیر عمر چمن

ڈسٹرکٹ ٹیچر ایجوکیٹر کی طرف سے بچوں پر تشدد کرنے کے الزام پر ایک ڈی ٹی ای کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔
ڈی ٹی ای کو نوکری سے فارغ کرنے کے لیے ڈی سی او کی طرف سے سیکرٹری ایجوکیشن کو بھی تحریری سفارش بھجوا دی گئی ہے۔
یہ بات ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر چوہدری جاوید احمد تتلا نے سجاگ کو گفتگو کے دوران بتائی ہے۔
سجاگ کو انہوں نے بتایا ہے کہ حکومت کی طرف سے ہر سکول سے تیسری، چوتھی اور پانچویں جماعت کے طالب علموں اور اساتذہ کی تعلیمی کارکردگی کو جانچنے کے لیے ڈسٹرکٹ ٹیچر ایجوکیٹر تعینات کیے ہیں۔
ہر ڈی ٹی ای کو تین سے چار سکول دیے گئے ہیں جنہیں کلسٹر کہا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کلسٹر پیر پنجہ کے ڈی ٹی ای مہر آصف علی کے خلاف ڈی سی او شوکت علی خان کھچی کو شکایات موصول ہوئیں کہ وہ دوران وزٹ طالب علموں پر تشدد کرتا ہے اور اس کا اساتذہ کے ساتھ رویہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔
ڈی ایم او نے بتایا کہ شکایات موصول ہونے پر انہیں اس سلسلے میں انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا تھا اور دوران انکوائری تمام الزامات ثابت ہوئے ہیں۔
جاوید تتلا نے سجاگ کو بتایا کہ آصف علی کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے جسے نوکری سے فارغ کرنے کے لیے درخواست بھی اعلیٰ حکام کو بھیج دی گئی ہے۔

بشکریہ امیر عمر چمن (سجاگ)